نئی دہلی (ویب ڈیسک)
بھارتی ریاست کیرالہ میں جعلی تعلیمی اسناد کے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 22 مختلف یونیورسٹیوں کے نام پر تیار کی گئی ایک لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں برآمد کر لی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیرالہ پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ایک منظم گروہ کے خلاف چھاپے مارے، جس کے نتیجے میں 11 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک طویل عرصے سے سرگرم تھا۔
جعلی ڈگریاں کن مقاصد کے لیے استعمال ہوئیں؟
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً 10 لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں مختلف شعبوں میں ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں، جن میں میڈیسن، نرسنگ اور انجینئرنگ جیسے حساس اور اہم شعبے بھی شامل ہیں۔
جعلی اسناد کی قیمت
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ گروہ ایک جعلی ڈگری یا سرٹیفکیٹ 75 ہزار روپے سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک فروخت کرتا تھا، جس کے باعث یہ کاروبار نہایت منافع بخش بن چکا تھا۔
مزید انکشافات متوقع
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کے مزید افراد اور دیگر ریاستوں میں پھیلی سرگرمیوں کا بھی سراغ مل سکتا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان
اس بڑے اسکینڈل نے نہ صرف تعلیمی نظام کی نگرانی پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ حساس شعبوں میں تعینات افراد کی اسناد کی جانچ پڑتال کی اہمیت کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔