لاہور (نیوز ڈیسک): حکومتِ پنجاب نے زمین سے متعلق معاملات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے زبانی لین دین کی بنیاد پر زمین کی فرد نکلوانے اور انتقال درج کرانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اب زمین کا انتقال صرف باقاعدہ رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔
نوٹیفکیشن جاری
اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967ء کی مختلف دفعات کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعات 13(2)، 16(2)، 17 اور 42-A کے تحت یہ پابندی نافذ العمل ہوگی۔
کن معاملات میں رجسٹری لازمی ہوگی؟
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ:
وراثتی معاملات کے علاوہ
زمین کی خرید و فروخت
رہن (Mortgage)
تبادلہ
ہبہ (Gift)
صرف رجسٹرڈ انسٹرومنٹ کی بنیاد پر ہی قابلِ قبول ہوں گے۔ غیر رجسٹرڈ دستاویزات پر کوئی انتقال درج نہیں کیا جائے گا۔
متعلقہ قوانین کا اطلاق
اعلامیے کے مطابق:
رجسٹریشن ایکٹ 1908ء کے تحت بغیر رجسٹری کے انتقال ممکن نہیں ہوگا
سادہ اسٹامپ پیپر یا غیر رجسٹرڈ معاہدے کی بنیاد پر انتقال درج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
ریونیو افسران کو ہدایات
نوٹیفکیشن میں تمام ریونیو افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
فوری نفاذ
حکام کے مطابق یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس کا مقصد زمین سے متعلق تنازعات، جعلسازی اور غیر قانونی لین دین کا خاتمہ کرنا ہے۔
نتیجہ
پنجاب حکومت کا یہ اقدام زمین کے ریکارڈ کو محفوظ، شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ زمین سے متعلق کسی بھی قسم کے لین دین سے قبل باقاعدہ رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔