اکثر اوقات سوشل میڈیا پر ایسے سوالات گردش کرتے رہتے ہیں جن میں مذہب، تقدیر اور حادثات کو ایک دوسرے کے مقابل لا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک واقعے کے تناظر میں یہ جملہ زیرِ بحث آیا کہ “سفر کی دعا کی گئی تھی، پھر بھی جہاز کریش ہو گیا—اگر خدا ہوتا تو بچا نہ لیتا؟” اس سوال پر معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے جواب کو صارفین نے خاصی توجہ دی۔
سوال کی نوعیت
یہ سوال دراصل انسانی فہم، تقدیر اور آزمائش کے موضوعات سے جڑا ہوا ہے۔ حادثات خواہ زمینی ہوں یا فضائی، دنیا بھر میں مختلف وجوہات کی بنا پر پیش آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مذہبی سوالات اٹھنا ایک فطری امر سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا مؤقف
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق دعا کا مقصد انسان کو آزمائشوں سے مکمل طور پر آزاد کرنا نہیں، بلکہ مشکل وقت میں حوصلہ، صبر اور اللہ پر بھروسا عطا کرنا ہے۔ ان کے نزدیک دعا کا قبول ہونا ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ اس میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ:
دعا انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے
ہر واقعہ دنیاوی قوانین کے تحت بھی وقوع پذیر ہوتا ہے
حادثہ کسی کی بداعمالی یا دعا کی عدم قبولیت کا ثبوت نہیں ہوتا
تقدیر اور انسانی اختیار
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق اسلام میں تقدیر کا تصور انسان کے اختیار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انسان احتیاط کرتا ہے، وسائل اختیار کرتا ہے اور دعا بھی مانگتا ہے، مگر حتمی نتیجہ اللہ کے علم اور حکمت میں ہوتا ہے، جسے انسان مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتا۔
حادثات سے حاصل ہونے والا سبق
ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ہمیں غرور کے بجائے عاجزی سکھاتے ہیں۔ زندگی غیر یقینی ہے اور یہی احساس انسان کو بہتر انسان بننے، دوسروں کی مدد کرنے اور اخلاقی اقدار اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس وضاحت کو کئی افراد نے متوازن اور مدلل قرار دیا۔ صارفین کے مطابق یہ جواب جذبات کے بجائے فہم و تدبر کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور غیر ضروری بحث سے بچاتا ہے۔
مذہب اور سائنس کا توازن
ماہرین کے مطابق حادثات کی سائنسی وجوہات اپنی جگہ موجود ہوتی ہیں، جیسے تکنیکی خرابی یا انسانی غلطی، جبکہ مذہب انسان کو ایسے حالات میں حوصلہ اور اخلاقی سمت فراہم کرتا ہے۔ دونوں کو باہم متصادم بنانے کے بجائے متوازن انداز میں سمجھنا زیادہ مفید ہے۔
نتیجہ
سفر کی دعا کے باوجود حادثہ پیش آنا ایمان کے خلاف دلیل نہیں بلکہ زندگی کی حقیقت ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا جواب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دعا کا مقصد صرف نتیجہ نہیں، بلکہ انسان کے دل کو مضبوط کرنا اور اسے آزمائش میں ثابت قدم رکھنا ہے۔