اسلام آباد (ویب ڈیسک)
پنجاب حکومت نے تعلیمی نظام میں بہتری کے سفر کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کے مطابق سال 2025 کو عملی اصلاحات اور تعلیمی ترقی کا سال قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی سالانہ کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات
رانا سکندر حیات کے مطابق صوبے بھر میں 20 لاکھ فرضی انرولمنٹ کا خاتمہ کیا گیا، جبکہ 26 ہزار اساتذہ کی ریشنلائزیشن کے ذریعے تدریسی عملے کی کمی پر قابو پایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نصاب میں جامع تبدیلیاں کی گئیں اور امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے تعلیمی بورڈز کو ای مارکنگ سسٹم کی طرف منتقل کیا جا چکا ہے، جس سے شفافیت اور رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ابتدائی تعلیم اور نیوٹریشن پروگرام
وزیرِ تعلیم نے کہا کہ حکومت نے ابتدائی تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے 10 ہزار اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کلاس رومز قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں روزانہ 11 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو نیوٹریشن پروگرام کے تحت سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اسکولوں کی اپ گریڈیشن اور انتظامی اقدامات
حکومتی اقدامات کے تحت پنجاب میں 268 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ اساتذہ سے متعلق ہراسانی کے 37 مقدمات نمٹائے گئے۔ تعلیمی اداروں میں شفاف انتظام کو یقینی بنانے کے لیے 450 کالجز میں میرٹ پر پرنسپلز تعینات کیے گئے۔
نجی طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم
اہم پیش رفت کے طور پر وزیرِ تعلیم نے اعلان کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے 10 ہزار لیپ ٹاپس دینے کی منظوری دی جا چکی ہے، جس سے نجی شعبے کے طلبہ بھی ڈیجیٹل سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
جامعات میں تقرریوں کا عمل مکمل
رانا سکندر حیات نے مزید بتایا کہ صوبے کی 29 جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔