نئے مالی سال میں مقامی ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس مہنگی ہونے کا امکان

کراچی (ویب ڈیسک)
آئندہ مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ گاڑیوں اور موٹر بائیکس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یکم جولائی سے ان گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا امکان ہے، جس سے صارفین پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس کو دی گئی سیلز ٹیکس رعایت ختم کی جائے۔ تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ مالی سال سے ان مصنوعات پر 18 فیصد اسٹینڈرڈ سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے۔

موجودہ ٹیکس رعایت کی تفصیل

فی الحال مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کو سیلز ٹیکس کے آٹھویں شیڈول کے تحت خصوصی رعایت حاصل ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق:

1800 سی سی تک کی مقامی ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس

1801 سے 2500 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد سیلز ٹیکس

ہائبرڈ الیکٹرک بائیکس بھی ٹیکس چھوٹ کے دائرے میں شامل ہیں

یہ رعایت باضابطہ طور پر 30 جون 2026 تک مؤثر ہے، تاہم اب اسے قبل از وقت ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ٹیکس پالیسی میں ممکنہ تبدیلی

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت صنعت و پیداوار اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ گاڑیوں کو سیلز ٹیکس کے آٹھویں شیڈول سے نکال کر نارمل ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے، جس کے بعد ان پر عمومی شرح کے مطابق ٹیکس لاگو ہوگا۔

صارفین اور آٹو انڈسٹری پر اثرات

اگر یہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو نہ صرف ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے بلکہ آٹو موبائل انڈسٹری اور صارفین کے خریداری فیصلوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حتمی فیصلہ آئندہ بجٹ میں سامنے آنے کا امکان ہے۔

Lascia un commento