اسلام آباد (ویب ڈیسک)
انڈونیشیا کی حکومت نے بیرونِ ملک مقیم انڈونیشیائی نژاد افراد کے لیے ایک اہم اور منفرد پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد ایسے افراد کو طویل المدتی رہائش اور قانونی سہولیات فراہم کرنا ہے جو انڈونیشیا سے خاندانی یا نسلی تعلق رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے اقدام کو “گلوبل سٹیزن شپ آف انڈونیشیا پروگرام” کا نام دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت درخواست گزاروں کو ملک میں رہائش، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہو سکے گی، تاہم یہ باقاعدہ دوہری شہریت نہیں ہوگی۔
دوہری شہریت کا متبادل حل
واضح رہے کہ انڈونیشیا کے قوانین دوہری شہریت کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی قانونی پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے انڈونیشیائی نژاد افراد کے لیے ایک خصوصی رہائشی حیثیت متعارف کرائی ہے، تاکہ وہ اپنے آبائی ملک سے تعلق بحال رکھ سکیں۔
پروگرام کا آغاز اور ابتدائی رجسٹریشن
سرکاری ذرائع کے مطابق اس پروگرام کا عملی نفاذ 26 جنوری 2026 سے کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں متعدد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کی تفصیلی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
کون افراد اہل ہوں گے؟
اس اسکیم کے تحت درج ذیل افراد درخواست دینے کے اہل قرار دیے گئے ہیں:
سابق انڈونیشیائی شہری
سابق شہریوں کی اولاد، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں
انڈونیشیائی شہریوں کے غیر ملکی شریکِ حیات
مخلوط قومیت رکھنے والے خاندانوں کے بچے
کن افراد کو سہولت نہیں دی جائے گی؟
حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام ان افراد کے لیے دستیاب نہیں ہوگا:
جن کا تعلق ایسے علاقوں یا ممالک سے ہو جو ماضی میں انڈونیشیا سے الگ ہوئے ہوں
جو علیحدگی پسند یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں
جنہوں نے کسی دوسرے ملک میں فوجی، انٹیلی جنس یا اعلیٰ سرکاری خدمات انجام دی ہوں
حکومتی مؤقف
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر مقیم انڈونیشیائی کمیونٹی کو دوبارہ قومی دھارے سے جوڑنا اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں ان کے کردار کو فروغ دینا ہے۔