جلاوطنی کے عرصے میں یوٹیوبر رجب بٹ کی آمدن سے متعلق اہم انکشاف

لاہور (نیوز ڈیسک): معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ نے حالیہ گفتگو میں اپنی جلاوطنی کے دوران ہونے والی آمدن سے متعلق دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اگرچہ وہ مکمل طور پر یوٹیوب پر متحرک نہیں تھے، تاہم اس کے باوجود ان کی مجموعی کمائی متاثر نہیں ہوئی۔

پوڈکاسٹ میں گفتگو

میڈیا رپورٹس کے مطابق رجب بٹ نے یوٹیوبر نادر علی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران بتایا کہ جلاوطنی کی وجہ سے ان کی آمدن میں نمایاں کمی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس دوران کچھ مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا تو وہ ان کے لیے قابلِ قبول تھا۔

یوٹیوب سرگرمی محدود رہی

رجب بٹ کے مطابق اس عرصے میں وہ یوٹیوب پر زیادہ فعال نہیں تھے، جس کی وجہ سے ویورشپ میں کمی آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا یوٹیوب چینل ان کے دوستوں کی نگرانی میں چلتا رہا اور وہ خود صرف مختصر وقت کے لیے ویڈیوز میں نظر آتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین تھا کہ واپسی کے بعد ویورشپ دوبارہ بحال ہو جائے گی، جو اب ہو چکی ہے۔

مالی نقصان اور بحالی

گفتگو کے دوران رجب بٹ نے بتایا کہ موجودہ حالات میں انہیں اندازاً ڈھائی کروڑ روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم اب ان کی ویورشپ اور آن لائن سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ چکی ہیں۔

ٹک ٹاک لائیوز سے آمدن

اسی پوڈکاسٹ میں موجود ایک اور سوشل میڈیا شخصیت نے بتایا کہ رجب بٹ نے جلاوطنی کے دنوں میں اگرچہ یوٹیوب پر کام کم کیا، لیکن وہ روزانہ ٹک ٹاک پر لائیو آتے رہے۔ گفتگو کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس مدت میں ان کی کمائی ایک بڑی رقم تک جا پہنچی۔

پوڈکاسٹ میں شریک افراد کے مطابق اندازوں کے مطابق یہ آمدن تقریباً 9 کروڑ روپے کے قریب بتائی جا رہی ہے، تاہم یہ اعداد و شمار ذاتی دعوؤں پر مبنی ہیں اور ان کی کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں کی گئی۔

رجب بٹ کا مؤقف

رجب بٹ نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں یہ سب اپنے روزگار کے تسلسل کے لیے کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وہ روزانہ 2 سے 3 گھنٹے ٹک ٹاک پر لائیو آتے تھے اور اس دوران ہونے والی آمدن انہیں عام حالات میں یوٹیوب سے کئی ماہ میں حاصل ہوتی تھی۔

نتیجہ

رجب بٹ کی گفتگو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متنوع سرگرمیاں رکھنے والے افراد مشکل حالات میں بھی اپنی آمدن کے ذرائع برقرار رکھ سکتے ہیں۔ تاہم آمدن سے متعلق تمام اعداد و شمار ذاتی بیانات پر مبنی ہیں، جنہیں حتمی یا سرکاری حیثیت حاصل نہیں۔

Lascia un commento